اسلام آباد:
تشدد کا شکار ہونے والی کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ کی ماں ہونے کی دعویدار خواتین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے نمونے لے لئے گئے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج کے گھر مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی کم سن ملازمہ طیبہ کی ماں ہونے کا دعویٰ کرنے والی 3 خواتین سامنے آ گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر طیبہ کی ماں ہونے کی دعویدار خواتین ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے پمز اسپتال پہنچیں۔ 2 خواتین کا پمز اسپتال میں ڈی این اے ٹیسٹ ہو چکا ہے جب کہ اب مہوش نامی خاتون بھی سامنے آ گئی ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیٹی بنا کرتین دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: طیبہ تشدد کیس کی تحقیقاتی رپورٹ 3 روز میں طلب
واضح رہے کہ تشدد کا شکار بننے والی کم سن طیبہ منظر عام سے غائب ہے، نہ تو بچی کو عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اس کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی۔
No comments: